اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی نویں پیامبر اعظم (ص) فوجی مشقیں بدھ سےخلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں شروع ہو گئی ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد سپاہ کی میزائلی طاقت کی نمائش اور آپریشنل دستوں کی جنگی طاقت و توانائی میں اضافہ کرنا ہے۔
ان بحری مشقوں کے آغاز کےموقع پر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاریجانی، مسلح افواج کے نائب سربراہ غلام علی رشید، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ جنرل محمد علی جعفری، تینوں مسلح افواج کے اعلی کمانڈر اور کئی دیگر اعلی کمانڈر بھی موجود تھے۔ یہ بحری مشقیں یا محمد رسول اللہ کے رزمیہ نعرے اور جنرل محمد علی جعفری کے فرمان سے شروع ہوئيں- خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں ہونے والی ان فوجی مشقوں میں سپاہ پاسداران کی مختلف جنگی کشتیاں اور بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں- نویں پیامبر اعظم (ص) بحری مشقیں سپاہ پاسداران کے آپریشنل دستوں کی جنگی قوت و صلاحیت بڑھانے اور علاقے سے باہر کی طاقتوں کےلئے سپاہ پاسداران کی میزائلی طاقت واقتدار کا مظاہرہ کرنے کی غرض سے منعقد کی جا رہی ہیں- ان بحری مشقوں کے پہلے پروگرام میں رزمیہ نعرے کے بعد سپاہ پاسداران کی اسپیڈ بوٹس نے سمندر میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کارروائی انجام دی- یہ جنگی بوٹیں بحری راڈار، جدید مواصلاتی نظام، پچیس کلومیٹر کی رینج والے کروز میزائلوں،درمیانہ فاصلے تک مار کرنے والے اینٹی وارشپ میزائلوں، متوسط اور بڑے تارپیڈو اور سمندری بارودی سرنگوں سمیت بہت سے دیگر سازوسامان سے لیس ہیں- مشقوں کے اس مرحلے میں سپاہ پاسداران کی بحریہ کے تیس بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کارروائی انجام دی- یہ کارروائی انتہائی تیزی سے اور کم وقت میں انجام دی گئی اور اس ٹیکٹیکس سے بحرانی حالات میں ممکنہ خطروں کےخلاف استفادہ کیا جا سکتا ہے- سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈر بریگیڈیر جنرل علی فدوی نے سمندر میں بارودی سرنگوں کو بچھانےکی کارروائی کے سلسلے میں اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ بارودی سرنگوں کابچھایا جانا امریکیوں کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث ہے، کہا کہ ایران کے پاس ایسی جدیدسمندری بارودی سرنگیں ہیں کہ امریکی جن کا تصور بھی نہیں کر سکتے- ان بحری مشقوں کے دوران سپاہ پاسداران کی بحریہ کی ایک سو جنگی کشتیوں نے کندھے پر رکھ کر چلانے والے میثاق میزائلوں کے ذریعے اور اسپیڈ بوٹوں پر نصب توپوں کے ذریعے ہدف پر رکھے گئے ڈرون طیاروں کو نشانہ بنا کر تباہ کیا- امریکی طیارہ بردار جہاز کے ماڈل کو بھی جو سپاہ کی بحریہ نے بالکل اسی طرح بنایا تھا، ایک کارروائی کے دوران چاروں طرف سے سینکڑوں راکٹوں اور دسیوں میزائلوں سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا- یہ ماڈل امریکی طیارہ بردار جہاز جتنا ہی بڑا بنایا گيا تھا اور اسے دسیوں اسپیڈ بوٹوں نے نشانہ بنایا- اسی طرح کئي کروز میزائل اور دو بیلیسٹک میزائل بھی اس پر فائر کیے گئے- سپاہ پاسداران کی بحریہ کے کمانڈر نے اس سے قبل اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ آج امریکی اور پوری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ ایران کی کارروائی کا ایک مقصد امریکی بحریہ کا پوری طرح مقابلہ کرنا اوراسے اس علاقے سے باہرنکالنا ہے کہاتھا کہ امریکی بحری جہاز کو تباہ کرنے میں صرف پچاس سیکنڈ لگیں گے- پہلی بار ان بحری مشقوں کے موقع پر سپاہ پاسداران نے ہدف کو صحیح نشانہ بنانے والا گائیڈڈ میزائل ہیلی کاپٹر کے ذریعے طیارہ بردار جہاز پر فائر کیا-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲